چنئی، 2؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مدراس ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے مجرموں میں سے ایک ایس نلنی کی جانب سے گورنر کی اجازت کے بغیر انہیں رہا کئے جانے کے تعلق سے ہدایت دئے جانے کے مطالبہ پر دائر درخواست پرجمعہ کے روز ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا-چیف جسٹس سنجیب بنرجی اور جسٹس پی اے اوڈیکیسولو کی بنچ نے متعلقہ معاملے کی سماعت کے بعد ریاستی حکومت کو دسہرہ کی چھٹی کے بعد اپنا جواب داخل کرنے کاحکم جاری کیا-نلنی نے اپنی درخواست میں 9ستمبر2018کو ریاستی کابینہ کی قرارداد کے مطابق گورنر سے آئین کے آرٹیکل161کے تحت تمام ساتوں مجرموں کی رہائی کی سفارش پر گورنر کی ناکامی کو غیر آئینی قرار دینے کامطالبہ کیا ہے - سماعت کے دوران نلنی کے وکیل ایم رادھاکرشنن نے یہ بھی دلیل دی کہ گورنر کابینہ کی سفارشات کے مطابق اور نہ ہی دوسری صورتوں میں کام کرنے کے پابند ہیں -نلنی کے علاوہ، دیگر مجرموں میں اس کے شوہر موروگن، اے جی پیراریولن، سنتھن، جئے کمار، روی چندرن اور رابرٹ پیاس ہیں -تمام ساتوں کو قتل میں ان کے کردار کیلئے ایک خصوصی ڈاٹا عدالت نے مجرم ٹھہرایا تھا اور انہیں 28جنوری1998کو سزائے موت سنائی گئی اور عدالت عظمیٰ نے11مئی1999کو اس سزا کو برقرار رکھا تھا- تاہم24 /اپریل2000کو گورنر نے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا- قابل ذکر ہے سابقہ اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت سمیت دیگراس وقت کی اپوزیشن پارٹی ڈی ایم کے اور دوسری سیاسی جماعتوں نے ریاستی کابینہ کی قرارداد کے ذریعے ساتوں مجرموں کی رہائی کا مطالبہ کیاجارہا تھا- ساتھ ہی گورنر آفس کا کہنا ہے کہ متعلقہ سفارش کوصدر کے پاس منظوری کیلئے بھیج دی گئی ہے -